تم مت جاو۔

دبی ہوئ اَواز میں اُسنے اسے روکنے
کی کوشش کی۔ 

نہیں جاؤں تو کیا کروں؟ یہاں بیٹھ جاؤں؟ پھر چار دن باد کیا ہوگا؟ نہ نوکری ہے تمہارے پاس اور نہ میرے پاس۔ 

تم رک جاو سب کر لینگے۔ تم کہتے ہو نہ رِزک دینے کا وعدہ خدا نے کیا ہے۔ 
ایسے نہیں ہوتا۔ سڈک پار کرنے کے لیے ٹریفک رکنے کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔ خدا پر چھوڑ کر ٹریفک میں کود جانا پیار نہیں بےوقوفی ہے۔ عقل کا استعمال کرنے کی بھی ہدایت دی ہے اُسنے۔

اسنے بڑی نرمی اور محبت سے اسکو سمجھانے کی کوشش کی۔  

پھر کب تک ہم یونہی دور دور رہ کر اس محبت کو نبھاتے رہینگے۔ تا عمر؟
ایک سہمی سی اَواز اور روندھے ہوے گلے سے اسنے اجزی زاہر کرنے کی کوشش کی۔

تم بھروسا کرتے ہو مجھ پر؟ 
-ہا، کرتا ہوں۔ 

پھر اُپر والے پر بھروسا رکھو اور اس پیار پر یقین۔ ہم جلد ہی ساتھ ہونگے۔ 

وہ کھڑا اسے جاتے ہوے دیکھتا رہا۔ اُسکی باتیں اسکو متمعین کرتی اَئ تھی۔ اسے اس سے اتنی محبت ہو گئ تھی کی اس کے کہنے پر وہ رات کو بھی دن مان لیتا۔ 
ہماری زندگی اُمّید بھروسوں پر گزرتی ہے۔ کل کے بہتر ہونے کی اُمّید۔ وقت کے بدلنے اور سازگار ہونے کا بھروسا۔ اور اسی اُمّید کے سہارے ہم اپنے اندر کی نا اُمّیدیوں سے لڑنے کی کوشیشیں کرتے ہے۔ کبھی کامیابی سے تو کبھی ناکام ہوتے ہیں۔ مگر اس ناکامی میں ہم اس سہارے کی اُنگلی نہی چھوڑتے جس سے ہماری ہر اُمّید وابستا ہوتی ہے۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s