اُسکی محبت لازوال ہے۔ وہ میری حیات کا ایک ایسا حصہ ہے جیسے مچھلی کے لیے پانی، اس سے الگ ہوتے ہی میں چھٹپٹا جاتا ہوں۔ اُسکے جوبصورت چہرے کو دیکھتے جانے کو میں زندگی سمجھتا ہوں۔ وہ روٹھ جاۓ تو اس کو منانے کو میں پہروں اُدھیڈ بن میں رہتا ہوں۔ وہ ایک کتاب ہے جسکو پڑھتے ہوے محسوس ہوتا ہے کی میں زندگی کی کتنی ساری خوبصورت چیزوں سے ہمنوار ہو رہا ہوں۔ وہ ہنستی ہے تو جیسے گلاب کی کلیاں کہیں چٹک رہی ہے۔ وہ بات کرتی ہے تو سبا کی ٹھنڈی تاسیر کا احساس رگوں میں اُتر کر میری زیست کو معتّر کرتا ہے۔ وہ ایک بےپناہ خوبصورت شے ہے جس کا دل رحم سے لبریز ہے۔ جس کا زہن مدد اور خدمت سے منیر ہے۔ وہ ایک سفاف دل تو رکھتی ہے مگر شاید رسم و رواج اکسر اسے زنجیروں میں جکڑ لیتے ہیں اور اسے بڈھنے نہیں دیتے۔ میں اس کے اِنتظار میں کھڑا ایک ارسے سے اُسکے اَنے کا منتظر ہوں۔ میری اُمید ٹوٹتی بھی تو نہیں، ایسا لگتا ہے کی کسی نے میرے الاوا میری اُمیدوں کو پکڑ رکھا ہے شاید محبت کے بچھڑ کر ٹوٹ جانے کے ڈر سے۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s